68

ایمرجنسی سے پہلے۔

تحریر۔ منیر احمد بلوچ

پاکستان میں عدلیہ کی تاریخ کا بد ترین فیصلہ ملکی وحدت اور سالمیت پر کس طرح اثر انداز ہو سکتا ہے اسے ہم تاریخ کے حوالے کر دیتے ہیں لیکن یہ کہنے دیجئے کہ اس فیصلے نے جنرل مشرف کے سارے گناہ دھو کر رکھ دیئے ہیں کل تک جس پر ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں انگلیاں اٹھ رہی تھیں آج سب سے مظلوم دکھائی دے رہا ہے شائد اسی لئے باری تعالیٰ ہر فرعون کے گھر میں موسیٰ ضرور پیدا کرتا رہتا ہے۔ یہ تو کسی کو بتانے کی ضرورت ہی نہیں کیونکہ یہ ایک کھلے راز کی طرح ہم سب کے سامنے ہے کہ جنرل مشرف کے خلاف ۔۔غداری کے نام پر چلایا جانے والا مقدمہ کابینہ کی منظوری کے بغیر قائم کیا گیا اور یہ سی ایل اے 1976 کے اسپیشل لاء جو ہائی ٹریزن ایکٹ کی خلاف ورزی ہے سی آر پی سی 512 عمل درآمد کے بجائے جنرل مشرف کی گرفتاری پر زور دیا گیا۔ 342 کے تحت جب تک ملزم کا بیان ریکارڈ نہیں ہوجاتا کسی بھی مقدمے میں آج تک کسی کو سزا نہیں دی گئی تو اس کیس میں یہ سب کیوں ہوا؟۔ ایسا لگ رہا ہے کہ خصوصی عدالت کے کسی جج کو خاص جلدی تھی کیونکہ بنچ کے ایک رکن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ ان بیانات کی ریکارڈنگ کے بغیر مقدمے کو آگے بڑھانے کے خلاف تھے؟۔کیا بیس دسمبر سے پہلے اس مقدمے کا فیصلہ سنا نا بہت بڑی مجبوری بن چکی تھی؟۔

اٹھارہ دسمبر کا یہ فیصلہ اس تسلسل کا حصہ ہے جو افتخار چوہدری کے خلاف ریفرنس اور پھر تین نومبر 2007 کی ایمر جنسی سے شروع ہوا اور پھر اسی ایمر جنسی کی رو سے جاری کئے جانیو الے پی سی او کے خلاف سپریم کورٹ کے سات رکنی بنچ کا فیصلہ کیسے ہوا؟افتخار چوہدری کی نگرانی میں وہ سات رکنی بنچ کیسے تشکیل دیا گیا اس سات رکنی بنچ نے کونسی آئینی پٹیشن کا فیصلہ کیا سات رکنی یہ بنچ کب وجود میں آیا اس کے فیصلے کی کاپیاں کیسے اور کن لوگوں کو تقسیم کی گئیں؟۔ یہ سوال آگے چل کر بہت سے پہلو بے نقاب کرے گا لیکن فوری سوال جو سامنے آ رہا ہے کہ کیا عدالتی تاریخ میں آج تک کسی بھی عدلیہ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ مدعی یا اس کے وکیل کی موجودگی کے بغیر کسی بہت بڑے مقدمے کا فیصلہ کرسکے؟۔عدم پیروی پر دائر کیا گیا کوئی بھی سول کیس یا اپیل خارج ہو سکتی ہے لیکن جب آپ کسی پر سنگین غداری کا مقدمہ چلاتے ہیں تو اس کیس پر ایسا فیصلہ کیوں نہیں ہو سکتا؟۔ اگر آپ کہتے ہیں کہ اس مقدمے کو چھ سال ہو گئے تھے تو جناب والا ماڈل ٹاؤن کے چودہ قتلوں کو بھی پانچ برس ہو چکے ہیں؟۔شریف فیملی کے ملک کے سات بینکوں سے لئے گئے قرضوں کا مقدمہ بارہ برس تک ادھر ادھر دھکے کیوں کھاتا رہا؟۔

جنرل مشرف کی تین نومبر کی ایمر جنسی کے خلاف سات رکنی بنچ کی تشکیل اور اس کے سنائے گئے فیصلہ کی جو کہانی اس وقت کے رجسٹرار سپریم کورٹ نے میڈیا کو بتائی اس کے مطابق چوہدری اعتزاز احسن نے ایمر جنسی کے نفاذ سے ایک دن پہلے دو نومبر کو کسی وقت سپریم کورٹ میں ایک پٹیشن داخل کرتے ہوئے استدعا کی تھی کہ افواہیں گردش کرر ہی ہیں کہ کسی بھی وقت ملک میں ایمر جنسی نافذ کر دی جائے گی اس لیئے عدالت عظمیٰ ایمر جنسی کے نفاذ کو روکنے کا حکم جا ری کرے رجسٹرار سپریم کورٹ کے مطابق اگلے دن تین نومبر کو ملک بھر کے اخبارات اور نجی چینلز نے بھی یہ تاثر دینا شروع کر دیا کہ حکومت نے ایمر جنسی اور پی سی او کے نفاذ کا فیصلہ کر لیا ہے جو کسی بھی متوقع ہے اور جنرل پرویز مشرف کی حکومت پی سی او جا ری کر کے سپریم کورٹ کے موجودہ عدلیہ کے کچھ ججوں کو پی سی او کے تحت حلف اٹھانے کیلئے نہیں بلائے گی اور اس طرح کچھ جج خود بخود فارغ ہو جائیں گے اب ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ دو نومبر کو ہی اعتزاز احسن کی اس درخواست پر کاروائی کی جاتی لیکن ایسا نہیں ہوا اگر دو نومبر کو نہیں تو تین نو مبر کو عدالتی اوقات کے دوران ہی اس مبینہ پٹیشن کی سما عت کی جانی چاہئے تھی لیکن سارا دن ایسا نہیں ہوا اور اس کیلئے کوئی خصوصی بنچ بھی تشکیل نہیں دیااور پھر تین نومبر کی شام سات جج جو سپریم کورٹ کی عمارت میں ہی قیام پذیر ہو چکے تھے انہی پر مشتمل ایک ہنگامی بنچ تشکیل دیا گیا اور تین نومبر کی شام چھ بج کر پندرہ منٹ پرتشکیل دیئے گئے اس بنچ نے اعتزاز احسن کی دائر کی گئی اسی مبینہ درخواست پر از خود نوٹس لیتے ہوئے تین نومبر کے آرمی چیف کے اقدام پر مبنی ایمر جنسی اور پی سی اوکے خلاف اپنا فیصلہ سنا دیامضحکہ خیزی دیکھئے کہ فیصلہ کسی عدالت میں نہیں سنا یا گیا کیونکہ اس کیس کی باقاعدہ کسی عدالت نہیں ہوئی۔

آج بارہ برس بعد بھی پوری ذمہ داری قبول کرتے ہوئے لکھ رہا ہوں کہ”یہ سات رکنی بنچ کورٹ روم میں گیا ہی نہیں تھا بلکہ ایک سابق جج کے چیمبر میں یہ لوگ اکٹھے ہوئے اور وہیں سے انہوں نے ایمر جنسی کے خلاف حکم امتناعی جاری کیا جس کانہ کوئی مدعی تھا اور نہ ہی کوئی وکیل۔اس فیصلے کی کاپی جان بوجھ کر نجی چینل کے ایک ایسے رپورٹر کو دی گئی جسے13مارچ کی سپریم جوڈیشل کونسل میں پیشی پر سابقہ چیف جسٹس کی طرف سے بہترین کوریج کرنے کی با قاعدہ شابا ش دی گئی تھی اور جو بعد میں ان کا ہمراز بنا اور وہ ملک بھر میں بہت سے مقدمات میں مداخلت کرتا رہا۔

سپریم کورٹ کے اس وقت کے رجسٹرارسے پوچھا گیا کہ تین نومبر کی رات سات رکنی بنچ نے جو فیصلہ دیا کیا انہیں اس کا حق تھا؟۔ یہ وہی سوال ہے کہ کسی بھی سول مقدمہ میں اگر مدعی یا اس کا کوئی نمائندہ عدالت میں حاضر نہیں تو عدالت اس پر از خود کاروائی کیسے کر سکتی ہے؟ رجسٹرار سپریم کورٹ فقیر محمد کا دیا گیا جواب ریکارڈ پر ہے کہ”سپریم کورٹ کو آئین کے آرٹیکل184(3)کے تحت سو موٹو کے اختیارات حاصل ہیں جس کے تحت وہ عبوری حکم جاری کر سکتے ہیں اور یہی سو موٹو اختیار استعمال کرتے ہوئے انہوں نے سات رکنی بنچ تشکیل دیا جس نے ایمر جنسی کے نفاذ کے خلاف فیصلہ دیا“ رجسٹرار سپریم کورٹ کا جھوٹ اس طرح پکڑا جاتا ہے کہ انہوں نے خودتسلیم کیا ہے کہ وہ چوہدری اعتزاز احسن کی پٹیشن پر مشتمل نوٹ بنا کر چیف جسٹس کے پا س لے کر گئے تاکہ اس کی سما عت کیلئے بنچ تشکیل دیا جائے اور ان کی یہ گفتگو ڈان گروپ کے انگریزی ماہنامہ ہیرالڈ کے شمارہ نومبر 2007 کے صفحہ 82d ریکارڈ پر موجود ہے جس کی انہوں نے تادم تحریر تردید نہیں کی ماہنامہ ہیرالڈ کو دیئے گئے اپنے انٹرویو میں سات رکنی بنچ کی تشکیل کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں

On Nov.2 an application filled by Aitzaz Ahsan in Supreme Court in which he drew attention to the rumors of an emending emergency proclamation and the PCO

تین نومبر کی شام چھ بج کر پندرہ منٹ پر رجسٹرار سپریم کورٹ کی طرف سے سات رکنی بنچ تشکیل دیا جاتا ہے اور چند لمحوں بعد عدالتی کاروائی شروع کرتے ہوئے احکامات جا ری کر دیئے جاتے ہیں کہ سول اور فوجی احکامات کے تحت کوئی بھی عبوری حلف نہیں ہو گا۔جس شخص کی پٹیشن پر یہ فیصلہ ہوا وہ تو اپنے کیس کی پیروی کیلئے وہاں موجودہی نہیں تھا اس طرح تو عدالت خود ہی مدعی بن گئی؟۔ جب یہ بات سپریم کورٹ کے ریکارڈ میں آج بھی موجود ہے کہ تین نومبر کو دن کے عدالتی اور دفتری اوقات میں کئی سائلوں کی جو پاکستان کے دور دراز کے علا قوں سے اپنے مقدمات کیلئے سپریم کورٹ میں پہنچے تھے سما عت ہی نہیں کی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں