52

مقبوضہ کشمیر اور یوم یکجہتی کشمیر۔

تحریر ۔ پیر سید سہیل بخاری

یوم یکجہتی کشمیر پر جس طرح ملک کے طول وعرض میں کشمیریوں کے حق خودارادیت کیلئے آواز بلند ہوتی ہے اسکی مثال گزشتہ کئی برسوں کے دوران نہیں ملتی لیکن 5اگست کو بھارتی حکومت نے ایک نئی چا ل چلی اور آرٹیکل تین سو ستراور آرٹیکل پینتیس اے کو ختم کرکے کشمیریوں کی شناخت، علیحدہ پرچم اور ریاست کا درجہ ختم کر دیا گیا ہے اور آج جموں و کشمیر میں لاکھوں شہری اپنے گھروں میں محصور ہیں اور عالمی برادری خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ بھارتی حکومت نے ہزاروں معصوم بچوں کو جیلوں میں ڈال رکھا ہے اور یہ کہاں کی جمہوریت ہے کہ 8سال کے معصوم بچوں کو جیل میں ڈال دیاہے او ر دنیا کے کسی بھی ملک کو ایسی کونسی جمہوریت ہے جو کہ نابالغ بچوں کو جیل میں ڈالتی ہے۔

بھارتی فوج 5اگست 2019کے بعد بلا کسی جواز کے رات کے اندھیرے میں کشمیریوں کے گھروں سے معصوم بچوں کو اٹھا کر لے جاتی ہے اور ریاست سے باہر ٹارچر سیلوں میں تیسرے درجے کا تشدد کرکے جوانوں کو نا کارہ بنا رہی ہے۔ بھارتی حکومت نے کشمیریوں کیلئے اپنی ہی زمیں پر ان کیلئے دائر ہ تنگ کردیا ہے۔ کشمیری خواتین کی آبروریزی کی جارہی ہے لیکن عالمی سطح پر سب ان بیہمانہ مظالم سے لا تعلق ہیں۔ کسی نے بھی مودی حکومت کے اس اقدام کی کھل کر مخالفت نہیں کی اور نہ پاکستانی حکومت کا ساتھ دینے کا کھلم کھلا اعلان کیا ہے یہ عالمی دنیا کی کیسی منافقت ہے کہ مسلمانوں پر جبر وتشدد کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں اور مسلم امہ بھی خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ جتنا ظلم اور تشدد بربریت مقبوضہ کشمیر میں بسنے والے لوگوں پر کی جارہی ہے اسکی مثال پوری دنیامیں نہیں ملتی۔ مگر کشمیری قوم کی لازوال قربانیوں کے باعث جلد یا بدیر ان کو آزادی نصیب ہوگی۔

پوری دنیا میں بھارتی یوم جمہوریہ کو کشمیری قوم کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے یوم سیاہ کے طور پر منایا گیا ہے۔ یوم سیاہ منانے سے دنیا کو بھارتی سیاہ چہرہ اور مودی کی مکروہ شکل میں جنت ارض کشمیر پر چھائی مودی کی نحوست کے گہرے سیاہ بادلوں کو دکھانے کا موقع بھی ملا ہے اور بھارت کو مقبوضہ جموں و کشمیر سے فوجوں کے انخلا تک یوم جمہوریہ منانے کا کوئی اخلاقی و سیاسی حق حاصل نہیں ہے۔ دہا ئیوں سے جاری ظلم و بربریت اور معصوم کشمیریوں کیخلاف انسانی حقوق کی پامالی کی مثال دنیا میں کہیں بھی نہیں ملتی ہے۔

مودی کی ہندوانہ پالیسیاں ایک منصوبہ بندی کے تحت تحریک آزادی کشمیر کو ختم کرنے اور اس سے کشمیر یوں کوالگ کرنے کی سازش بے نقاب ہوئی ہے۔ مقبوضہ وادی میں بھارتی افواج کے لاک ڈاؤن کو آج تقریباََ 80 1دن ہوگئے ہیں لیکن عالمی برادری نے کوئی پیش رفت نہیں کی اور نہ ہی بھارت اور مودی حکومت کا کوئی بائیکاٹ کیا ہے نہ ہی بھارت سے تجارت بند کی ہے اور نہ ہی افرادی قوت پر پابندی لگائی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ عالمی برادری کی سرپرستی اور آشیرباد سے ہورہا ہے۔ عالمی برادری اگر چاہتی تو انڈیا کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مودی کے خلاف سخت ایکشن لے سکتی تھی۔ لیکن اب تک کوئی لائحہ عمل تیارنہیں کیا گیا۔ اب5فروری یوم یکجہتی کشمیر پر دنیا بھرمیں ہونے والے مظاہرے سوئی ہوئی عالمی برادری کی آنکھیں کھول سکتے ہیں۔ ریاست جموں و کشمیر کی تقریباََ سوا کروڑ آبادی میں 30فیصد نوجوانوں کی تعداد ہے جن میں بیشتر پڑھے لکھے ہیں اور اکثر سرکاری نوکریوں کو ترجیح دیتے ہیں مگر ریاستی سطح پر اس وقت تقریباََ 5لاکھ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان بے روزگار ہیں معیشت بری طرح متاثر ہو چکی ہے کزشتہ سات دھائیوں سے جاری سیاسی بدحالی اور مسلح تحریک کی وجہ سے سب سے زیادہ کشمیری نوجوان بھارتی فوجی عتاب اور عذاب سے گزررہے ہیں کیونکہ بھارت نے ہمیشہ ایسے نوجوانوں کو تشدد کا نشانہ بنا کر نہ صرف سرکاری ایوانوں سے دور رکھا بلکہ بندوق اٹھانے پر بارہا مجبور بھی کیا۔کشمیر مخالف پالیسی اختیار کرکے بھارت نے کشمیری نوجوانوں میں نہ صرف نفرت کا جذبہ گہرا کردیا ہے بلکہ انہیں آزادی کی تحریک کیلئے عالمی سطح پر متحرک ہونے پر مجبور بھی کردیا ہے اور جب نوجوان کسی تحریک کیلئے متحرک ہو جاتے ہیں تو وہ اپنا اور اپنی قوم کا حق حاصل کرکے ہی رہتے ہیں۔
عالمی برادری کا اب فرض ہے کہ وہ بھارت کو مجبور کرے کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری لاک ڈاؤن کو ختم کرے اور سیاسی قیدیوں کی بگڑی ہوئی صحت کا خیال کرتے ہوئے انہیں فوری رہا کیاجائے۔

پانچ فروری یوم یکجہتی کشمیر پر وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے محصور کشمیر کے ساتھ اظہار یکجہتی کا اعلان کیا ہے جوکہ قابل فخر اور قابل ستائش ہے۔ پوری دنیا میں یوم یکجہتی کشمیر ایک احتجاج کی صورت میں منایا جائے گاجس میں ہر مکتبہ فکر کے افراد خواہ وہ مسلم ہیں، سکھ ہیں، عیسائی ہیں، یا کسی بھی رنگ و نسل کے ہیں کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے شامل ہونگے اور تناز عہ کشمیر کو حل کرنے میں معاون ثابت ہونگے اور اقوام متحدہ کا بھی یہ فرض ہے کہ وہ اس دیرینہ مسلے کا پائیدار حل نکالنے کیلئے قدم اٹھائے اور اپنی قراردادوں کے مطابق رائے شماری کا اعلان کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں