25

خالی ہاتھ۔۔۔۔۔وجہ جھوٹ؟ ایمن عرفان

جھوٹ ایک ایسی بیماری ہے جو کہ آ ج کل ہر انسان کو لاحق ہے۔ہم اپنی روزمرہ کی زندگی میں اکثر و بیشترمختلف معاملات میں جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں کبھی اپنی غلطی کو چھپانے کے لئے جھوٹ بول دیتے ہیں، تو کبھی سچ بولنے کا ڈر ہم سے جھوٹ بلوا دیتا ہے۔ہم جھوٹ بولتے وقت یہ بھول جاتے ہیں کہ جھوٹ کبھی نہ کبھی سامنے آ جاتا ہے یا ہم خود کبھی نہ کبھی اپنے جھوٹ سے پردہ اٹھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔جھوٹ بولتے وقت ہمیں ایسا لگتا ہے کہ اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی اور راستہ نہیں ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ یہی سارے مسلوں کا حل ہے۔کیونکہ جھوٹ بولنا بہت آسان ہوتا ہے تو لوگ سچ کے کٹھن راستے پر چلنے کی بجائے جھوٹ کی سیڑھی پر چڑھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ایسے میں وہ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ سچ کی طاقت کے آگے جھوٹ زیادہ عرصہ نہیں ٹھہر سکتا ،کیونکہ جھوٹ کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی جبکہ سچ کا وجود چھپائے نہیں چھپتا۔دیکھا جائے تو جھوٹ پہلی بار بولنا تھوڑا سا مشکل ہوتا ہے پھر اس کے بعد انسان کو اس ایک جھوٹ کو چھپانے کے لیے ہزاروں جھوٹ بولناپڑتے ہیں اور اسے جھوٹ بولنے کی اتنی عادت ہو جاتی ہے کہ اس کے لیے جھوٹ بولنا بہت آسان ہو جاتا ہے۔ جبکہ سچ پہلی بار ہو یا دسویں بار ہر بار تھوڑا سا مشکل ہوتا ہے۔سچ بولنے پر جو سکون انسان کو ملتا ہے وہ جھوٹ بول کر کبھی نہیں مل سکتا۔جھوٹ بولنے پر پہلی بار آپ کا ضمیر ملامت کرے یا نہ کرے مگر کبھی نہ کبھی وہ ملامت کرتا ہے۔ آپ کے ضمیر کی ملامت تب آپ کا سکون برباد کر دیتی ہے۔آپ کو اپنے کئے کا پچھتاوا ہونے لگتا ہے پر اس وقت پچھتاوے کا واقعی کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ ہمیں لگتا ہے بعد میں جب کبھی ہمیں اپنی غلطی کا احساس ہو گا یا جھوٹ پر شرمندگی ہو گی توہم کئی عرصے یا سال پہلے بولے گئے جھوٹ کے لئے معافی مانگ لیں گے اور ہمیں معافی مل بھی جائے گی اور ہمارا ضمیر بھی مطمئن ہو جائے گا۔تو نہیں ایسا نہیں ہے ۔وقت گزرنے کے ساتھ جیسے بہت سی باتیں اپنی اہمیت کھو دیتی ہیں بالکل اسی طرح جب وقت گزر جائے اور آپ کے جھوٹ کو آپکا سچ سمجھ کر آپ پر بھروسہ کر لیا گیا ہواور پھر آپ اپنے جھوٹ کا اعتراف کریں تو اس سے نہ آپکا جھوٹ سچ میں بدلتا ہے نہ سامنے والے کو اس وقت آپ کے سچ یا جھوٹ سے فرق پڑتا ہے۔ بات کوئی بھی ہو اپنے وقت پر ہی اچھی لگتی ہے ورنہ اہمیت کھو دیتی ہے ۔بالکل اسی طرح جیسے کسی آخری سانس لیتے ہوئے شخص کی خواہش کو سن کر انکار کر دیا جائے اور بعد میں اسی کے مرنے کے بعد اس پر عمل کرنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا ۔ہمیں ہمیشہ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ جھوٹ سے شروع ہونے والے رشتے یا کوئی بھی معاملات زیادہ دیر تک نہیں چلتے اس لیے جھوٹ بول کر رشتے بنائے رکھنے سے بہترہوتا ہے کہ سچ بول کر رشتہ ختم کر لیں۔ہم لوگ اپنی زندگی کے ہر معاملے میں اتنا جھوٹ بولنے لگتے ہیں کہ سچ اور جھوٹ میں فرق کرنا ہی بھول جاتے ہیں۔جھوٹ صرف دوسروں سے ہی نہیں بلکہ خود سے بھی نہیں بولنا چاہیے۔ہم تو جھوٹ کے اتنے عادی ہوچکے ہیں کہ اگر دوسروں سے جھوٹ بولنے کی نوبت نہ آئے تو ہم بہت سے معاملات میں خود سے ہی جھوٹ بولنے لگتے ہیں۔ ہم جب کسی اپنے سے جھوٹ بولتے ہیں تو زیادہ تر وہ سچ سے واقف ہونے کے باوجود ہمارے جھوٹ کو سچ تسلیم کر لیتا ہے۔ اس لیے نہیں کہ وہ بے وقوف ہوتا ہے بلکہ اس لئے کہ وہ ہم پر خود سے زیادہ یقین کرتا ہے۔وہ ہمیں ہماری نظروں میں شرمندہ نہیں کرنا چاہتا ۔تبھی خاموشی سے ہمیں بار بار موقع دیتا ہے کہ ہم اپنے جھوٹ کا اعتراف کر لیں اور انہیں سچ سے خود آگاہ کردیں۔ایسے میں جب ہم ان سے بار بار صرف جھوٹ بولتے ہیں تو کہیں نہ کہیں ان کا اعتبار کھو دیتے ہیں۔ پھر چاہ کر بھی وہ ہم پر پہلے کی طرح یقین نہیں کر پاتے۔ایسے میں ہم اور ہمارا جھوٹ اس کا ذمہ دار ہوتا ہے، نہ کہ وہ شخص جس کا اعتبار ہم سے اٹھ گیا ہوتا ہے۔ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگیوں اور اپنے فیصلوں میں سے جھوٹ کو نکال دیں اور کوشش کریں کہ خود سے اور لوگوں سے سچ بولیں تا کہ کبھی کسی مقام پر آ کر ہمارا دل اور ہمارا ضمیر ملامت نہ کرے کہ کاش تب جھوٹ نہ بولا ہوتا یا کاش اس انسان کا بھروسہ اپنے جھوٹ کی نظر نہ کیا ہوتا۔اسی طرح پھر ہم اپنے اللہ کی مخلوق کادل دُکھاتے ہیں اور اللہ بھی تو جھوٹ بولنے والوں کو سخت نا پسند کرتا ہے۔ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ جھوٹ بولنے کے پیچھے مصلحت کوئی بھی ہو جھوٹ، جھوٹ ہی رہتا ہے۔جھوٹ کی بنیاد پر قائم ہوئے کسی بھی رشتے میں برکت نہیں ہوتی۔ایسے رشتے میں انسان کا دل اور دماغ ہر وقت شش و پنج میں مبتلا رہتا ہے کہ اگر حقیقت سے پردہ اٹھ گیا تو کیا ہوگا؟ کیا وہ اپنے پیاروں کا اعتبار کھو دے گا؟کیا کوئی اس کے جھوٹ کی وجہ سے دوبارہ اس پر یقین کر پائے گا؟بہت سے سوال ہر وقت انسان کو گھیرے رکھتے ہیں۔ ہر دستک پر اسے ایسے محسوس ہوتا ہے کہ اس کے جھوٹ کی حقیقت اس کے دروازے پر کھڑی اس کا انتظار کر رہی ہے۔ہر دستک پر اس کی سانسیں تھمنے لگتی ہیں۔ اس کا دل پریشان ہونے لگتا ہے۔ ہر وقت کی بے چینی اور بے قراری اس کے سکون کو برباد کر دیتی ہے۔ وہ لاکھ مسکرا لے پر اس کی مسکراہٹ اس کی الجھن کی سلوٹیں چھپانے میں ناکام ہو جاتی ہے۔ یہ ہر پل کا ڈر اس کا جینا محال کرنے لگتا ہے۔ ایسے میں اسے احساس ہوتا ہے کہ کاش وہ جھوٹ کے سہارے اپنی خوشیوں کو برباد نہ کرتا۔اس وقت ضمیر کی ملامت سے تنگ آکر انسان سچ بولنے کی ہمت لے آتا ہے، پر یہ بھول جاتا ہے کہ اب اس سچ کا فائدہ ہی نہیں ہے، اب اس سچ کے وجود کا ہونا نہ ہونا ایک برابر ہے۔ اسے اب بھی لگتا ہے کہ وہ سچ بتا کر اپنوں کو کھو دے گا پر وہ یہ بھول جاتا ہے کہ اپنوں کو تو وہ جھوٹ بولتے ہی کھو بیٹھا تھا۔کیونکہ جب یقین ٹوٹتا ہے تو انسان بکھر جاتا ہے۔ پھر وہ اپنے جو ہم سے جھوٹ بولتے ہیں وہ لاکھ کوشش کریں ہمیں سمیٹ نہیں پاتے۔ ہم ریت کے ذروں کی مانند ان کی ہتھیلی سے پھسلتے چلے جاتے ہیں۔ اور وہ چاہ کر بھی ہمیں خود تک محدود نہیں رکھ پاتے.ایسے میں ان کے جھوٹ کی وجہ سے ان کے ہاتھ خالی رہ جاتے ہیں اور ان کے اپنے جاتے جاتے ان کے ہاتھ پر دھول کی مانند اپنا عکس چھوڑ جاتے ہیں،جنہیں پھر وہ لوگ اپنے آنسوؤں سے دھونے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ چھاپ اتنی گہری ہوتی ہے کہ کبھی کبھی تو زندگی بھر کے پچھتاوے کے آنسو بھی اسے مٹا نہیں پاتے.ایسے میں پھر انسان خود کو قصور وار سمجھنے لگتا ہے اور اسے سمجھ آنے لگتا ہے کہ کیسے اس کے ایک جھوٹ نے اسے اس کے اور اس کے اپنوں کی نظروں میں خاص سے عام کر دیا،یا کیسے وہ خود کو اپنے فیصلوں کی وجہ سے عرش سے فرش پر لے آیا۔ اسے سچ کی اہمیت کا اندازہ ہونے لگتا ہے اور جھوٹ سے نفرت ہونے لگتی ہے۔وہ خود سے یہ وعدہ کر لیتا ہے کہ اسے آج کے بعد کوئی بھی رشتہ جھوٹ کی بنیاد پر قائم نہیں کرنا، کیونکہ وہ عمارت کبھی قائم نہیں رہتی جس کی بنیادیں کمزور ہوں، اور جھوٹ کی بنا پر ہوں۔وہ جو غلطی ایک بار کر چکا ہوتا ہے دوبارہ غلطی سے بھی دہرانا نہیں چاہتا۔ ہم سب کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ جھوٹ کبھی نہ کبھی سامنے آ جاتا ہے۔ اس لئے کوشش کرنی چاہیے کہ نا خود سے جھوٹ بولیں اور نہ ہی دوسروں سے۔ سچ بولنے کی کوشش کریں کیونکہ سچ کے راستے پر چلنے سے ہی منزل ملتی ہے۔سچ کا سفر مشکل ضرور ہوتا ہے پر نا ممکن نہیں،سچ کے راستے میں جو سکون ہوتا ہے وہ اور کہیں بھی نہیں ملتا۔اللہ ہم سب کو سچ بولنے،سچ سننے اور سچ کو سمجھنے کی توفیق دے،اور جھوٹ کے راستے پر چلنے سے بچا کر رکھے آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں